آپ کا حکم تھا سرکار ! نہيں ہونے دیا
خود کو دُنیا کا طلب گار نہيں ہونے دیا
اَیرے غیرے کو ٹھہرنے کی اجازت نہيں دی
دل کو دل رکھا ہے بازار نہيں ہونے دیا
ورنہ یہ عشق سہولت سے کہاں ہونا تھا
کسی پاگل نے سمجھ دار نہيں ہونے دیا
میں نے شہرت کےلیے مِنت ِ دُنیا نہيں کی
اِس قدر ذہن کو بیمار نہيں ہونے دیا
شعر کہنے کی طلب نے مجھے توڑے رکھا
اور اِسی شوق نے مسمار نہيں ہونے دیا
ورنہ تُو کیا تری اوقات ہے کیا ' جانتا ہوں
شُکر کر لہجے کو تلوار نہيں ہونے دیا
تُو فقیروں کے کسی کام کا پہلے ہی نہيں
اِس لیے بھی تجھے بےکار نہيں ہونے دیا
میں نے اُس شخص کو کیا دل سے اُتارا ' عامی
پھر قبیلے نے بھی سردار نہيں ہونے دیا
عمران عامی
0 Comments