Wo Nahe Mera Magar Us Se Mohabat Hai To Hai | Dipti Misra | Urdu Poetry

وہ نہیں میرا مگر اُس سے محبت ہے ، تو ہے

یہ اگر رسموں رواجوں سے بغاوت ہے، تو ہے

سچ کو میں نے سچ کہا جب کہہ دیا تو کہہ دیا

اب زمانے کی نظر میں یہ حماقت ہے، تو ہے

کب کہا میں نے کہ وہ مل جائے مجھ کو میں اُسے

غیر نا ہو جائے وہ بس اتنی حسرت ہے، تو ہے

,Wo Nahe Mera Magar Us Se Mohabat Hai To Hai,Dipti Misra,urdu poetry,


جل گیا پروانہ گر تو کیا خطا ہے شمع کی

رات بھر جلنا جلانا اُ س کی قسمت ہے، تو ہے

دوست بن کر دشمنوں سا وہ ستاتا ہے مجھے

پھر بھی اس ظالم پہ مرنا اپنی فطرت ہے، تو ہے

دور تھے اور دور ہیں ہر دم زمین و آسماں

دوریوں کے بعد بھی دونوں میں قربت ہے، تو ہے

 

ڈپٹی مشراؔ

Post a Comment

0 Comments