اگر کوئی شخص مرد یا عورت کسی پر تعویز دھاگہ یا کوئی سفلی عمل کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں اگلے انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے . تو خداوند کے نزدیک ان لوگوں کا کیا درجہ ہوگا .

اگر کوئی شخص  مرد یا عورت  کسی پر تعویز دھاگہ  یا کوئی سفلی عمل کرتا ہے  اور اس کے نتیجے میں  اگلے انسان کی موت  واقع ہو جاتی ہے . تو خداوند کے نزدیک  ان لوگوں کا کیا درجہ ہوگا . جو تکلیف میں  مبتلا ہوئے اور انتقال کر گئے . کیونکہ آج کل کالا علم کا رواج ہے .لہذا مہربانی فرما کر تفصیل سے بتائیے . تاکہ اس کالے دھندے کرنے اور کرانے والوں  کو اپنا انجام معلوم ہو سکے . جادو اور صفلی عمل  کرنا . اس کے بدترین گناہ گار ہونے میں تو کسی کو اختلاف نہیں . البتہ اس میں اختلاف ہے . کہ جادو کرنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے  یا نہیں ہوتا . صحیح یہ ہے کہ اگر اس کو حلال سمجھ کر کرے تو کافر ہے . اور اگر حرام اور گناہ سمجھ کر کرے  تو کافر نہیں ہے . گناہگار اور فاسق ہے . اس میں شک نہیں کہ ایسے سفلی اعمال سے دل سیاہ ہو جاتا ہے . اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس آفت سے بچائے . یہ بھی فقہ امت نے لکھا  ہے. اگر کسی نے جادو اور سفلی عمل سے  کسی کو قتل کیا . تو یہ شخص قاتل ہی تصور ہوگا

Post a Comment

0 Comments