علی یقین علی روشنی علی بے شک 

Ali yaqeen ali roshani ali bayshak


علی مراد علی زندگی علی بے شک
علی اصول علی تابعِ ادائے رسول
علی وصال علی نغمگی علی بے شک

وہ کیوں بنے گا نبی کا کہ جو علی کا نہیں
نہیں علی کا تو سمجھو کہ وہ کسی کا نہیں

علی ہے رنگِ تعقل ! علی ہے جامِ الست
علی تحیرِ مستی علی ولایتِ ہست
علی امام علی جادہ ء امامت بھی
علی شہید علی شاہدِ شہادت بھی

یہ کیا کہا ؟ کہ ہمارا بھی تو کوئی ہے نا
کوئی ؟ چہ معنی ؟ کہو کھل کے ! ہاں! علی ہے نا !

بطرزِ میثمِ تمّار یا علی کہہ دوں
بدن سے نکلوں ! سرِ دار یا علی کہہ دوں
کہے جو شمس کہ مُرشد کا ذکر ہو جائے
بہ لحنِ سرمد و عطار یا علی کہہ دوں

غدیرِ خم کی خماری ہے واعظا ! مجھ کو
سوائے ذکرِ علی کچھ نہیں سنا مجھ کو

کوئی اداسی ہو ! مولا کا نام لے زریون
دلِ تباہ سے جینے کا کام لے زریون
کہاں پہ رلتا پھرے گا بھرے زمانے میں
یہی تو در ہے اسی در کو تھام لے زریون

خمارِ جامِ ولائے علی میں رہتے ہیں
کسی سے ڈر کے نہیں! صاف صاف کہتے ہیں !

بوقتِ نزع سبھی زندگی پکارتے ہیں
یہی معین یہی بُو علی پکارتے ہیں
سبھی فقیر تمامی ولی پکارتے ہیں
بنے کسی پہ بھی سب یا علی پکارتے ہیں

تو کچھ کہے یہ زمانہ ! رسول کہہ گئے ہیں
علی سے رخ نہ ہٹانا! رسول کہہ گئے ہیں !

صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم
علیہ السلام