یہ لفظوں کی شرارت ہے،،
سنبھل کر کچھ بھی لکھنا تم،،
محبت ♥_______ لفظ ہے لیکن،،،
یہ اکثر ____ ہو بھی جاتی ہے
----------------------
ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﯽ ﺍﻟﮭﺠﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻨﻮﺍﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ
ﮐﺎﻏﺬ ﭘﮧ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﺍُﺗﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ
----------------------------------------
یونہی اُس کے نین نہیں درویشوں جیسے
اُس نے من میں ایک فقیر سنبھال رکھا ہے
---------------------------------------
سانولی چاند سے اُجلی ہے اور اس پر اُس نے
نینوں میں اجمیر کا کجلا ڈال رکھا ہے
-----------------------------------
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﺗﮭﺎ
ﮨﻢ ﮐﻮ ﻓﻘﻂ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ
-----------------------
آج کل پیری فقیری سیکھ رہی ہوں
دیکھنا تمہیں مُرید بناؤں گی اپنا
-----------------------
وہ جو کہتا تھا کہ عشق میں کیا رکھا ہے
اک ہیر نے ،اسے رانجھا بنا رکھا ہے
-------------------------
0 Comments