پہلو میں ہو جو دِل تو ذرا پُوچھ کر بتا 
کل تک تُمہاری آنکھ کا تارا نہیں تھا میں

---------------------------------------------------------------------------------------------------

چھڑ کے مُجھ سے، خلق کو عزیز ہو گیا ہے تُو
مجھے تو جو کوئی مِلا، تجھی کو پُوچھتا رہا

تو وجہِ سوز نہیں، تو بھی گر ملا ہوتا
ہمارے ساتھ کوئی اور حادثہ ہوتا
سبھی کہانیاں، افسانے مر چکے ہوتے
اگر زمانے میں ہر شخص با وفا ہوتا
غلط ہیں لوگ جو جینا سزا بتاتے ہیں
ہمیں بھی ملتا یہ موقع اگر سزا ہوتا
زمیں جو پہلے ہی دن تنگ ان پہ کی جاتی
کوئی کسی کے نہ اب خواب توڑتا ہوتا
دل و دماغ کی بنتی نہیں غنیمت ہے
یہ ایک ہوتے نیا مسئلہ کھڑا ہوتا
یہ بات طے ہے کہ ہے مجھ میں ہی کمی ورنہ
یوں ساتھ میرا نہ ہر ایک چھوڑتا ہوتا
میں اک وجود ہوں سو آپ کا نہ ہو پایا
میں ایک خواب جو ہوتا تو آپ کا ہوتا
 اتباف ابرک


-----------------------------------------------------------------------------------------------


تمہارا صرف ہواؤں پہ شک گیا ہوگا
‏چراغ خود بھی تو جل جل کے تھک گیا ہوگا
‏۔۔ زبیر تابش ۔۔

-----------------------------------------------------------------------------------------------

صیغہ راز میں رکھیں گے نہیں عشق تیرا
ہم تیرے نام سے خوشبو کی دوکاں کھولیں گے

----------------------------------------------------------------------------------------------


زرد پتوں کے ڈھیر کی تہہ میں
میلے کاغذ چھپا گیا کوئی
جن پہ تازہ لہو سے لکھا تھا
میری جاں اس طرح نہ کرنا تھا
ہم کو اک ساتھ جینا مرنا تھا
جانِ من تم نے بے وفائی کی۔ ۔ ۔
کیا کہیں حدِ صبر کس کی ہے؟؟
کس سے پوچھیں یہ قبر کس کی ہے؟؟
---------------------------------------------------------------------------------------------------