رمضان المبارک کے قضا روزوں کا فدیہ کیسے دیا جا سکتا ہے؟ اس موضوع پر مختلف سوالات کے جوابات عرض کیے جاتے ہیں۔
پہلا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کمزور یا بیمار ہو اور روزہ رکھنے سے نقاہت محسوس کرے تو کیا وہ کسی دوسرے کو سحری اور افطاری کا سامان دے کر روزہ رکھوا سکتا ہے؟ اور کیا اس طرح اس کے ذمے سے روزے کا کفارہ ادا ہو جائے گا؟ کیا کوئی گناہ تو نہیں ہوگا؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ میرے والد محترم نے بیماری کی وجہ سے چھ مہینے کے روزے چھوڑ دیے ہیں اور اب بھی بیمار ہیں، روزہ رکھنے کے قابل نہیں۔ ان کے کئی آپریشن ہو چکے ہیں۔ اب وہ فکر مند ہیں کہ ان روزوں کو کیسے ادا کیا جائے۔ براہِ کرم اس کا حل بتائیں اور یہ بھی کہ روزوں کی ادائیگی کا طریقہ کیا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ آپ کے والد روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے، اس لیے جتنے روزے ان کے ذمے ہیں ان کا فدیہ ادا کر دیں۔ ایک روزے کا فدیہ صدقۂ فطر کے برابر ہے، یعنی دو سیر گندم یا اس کی قیمت۔ یا اسی طرح آٹا (چکی کا یا فائن) جو بھی گھر میں استعمال ہوتا ہے، اس کے حساب سے دو سیر یا اس کی قیمت ادا کریں۔ اسی حساب سے جتنے روزے چھوٹ گئے ہیں ان کا فدیہ دیا جائے، اور آئندہ بھی اگر روزے رکھنے کی استطاعت نہ ہو تو ہر روزے کے بدلے فدیہ ادا کرتے رہیں۔
تیسرا سوال یہ ہے کہ میری والدہ کے بچپن میں کافی روزے چھوٹ گئے۔ جب سے روزے فرض ہوئے، معمولی طبیعت خراب ہونے پر بھی گھر والے انہیں روزہ رکھنے سے منع کر دیتے تھے، اور انہیں ایسا ماحول نہیں ملا جس سے وہ یہ سمجھ پاتیں کہ فرض روزے رکھنا ضروری ہیں، چاہے بعد میں قضا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اب انہیں حقیقت کا علم ہوا ہے اور وہ پریشان ہیں۔ وہ قضا روزے رکھنا چاہتی ہیں، لیکن جب بھی روزہ رکھتی ہیں تو تین یا چار گھنٹے بعد شدید سر درد شروع ہو جاتا ہے، جس سے وہ کسی کام کے قابل نہیں رہتیں۔ بہت علاج کروایا مگر افاقہ نہیں ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ قضا روزے کیسے رکھیں یا فدیہ ادا کریں؟ اور اگر فدیہ دیں تو فی روزہ کتنا دیا جائے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر وہ اپنی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے قضا روزے نہیں رکھ سکتیں تو فدیہ ادا کر دیں۔ ہر روزے کے بدلے صدقۂ فطر کے برابر یعنی دو سیر گندم یا اس کی قیمت، یا اسی کے مطابق آٹا یا غلہ کسی مسکین کو دے دیا جائے۔
0 Comments