Sarkar Ki Batein | Naat Lyrics



آؤ کریں سب مل کے سرکار کی باتیں،
آؤ ہو کر سب مل کے سرکار کی باتیں۔

سرکار کی باتیں،
سرکار کی باتیں۔

اب کوئی نہیں، کوئی نہیں، کوئی سہارا،
سرکار ہمارا۔

ہم کیوں نہ کریں اپنے خریدار کی باتیں؟
ہم کیوں نہ کریں اپنے خریدار کی باتیں؟

سرکار کی باتیں،
سرکار کی باتیں۔

آؤ کریں سب مل کے سرکار کی باتیں،
دلدار کی باتیں۔

آؤ کریں سب مل کے سرکار کی باتیں۔

اے کاش کہ محفل ہو،
ابوبکر، عمر کی،
عثمان، علی کی۔

اے کاش وہ محفل ہو،
ابوبکر، عمر کی،
عثمان، علی کی۔

یاروں سے سنیں،
ہم بھی کبھی یار کی باتیں۔

سرکار کی باتیں،
یاروں سے سنیں ہم بھی کبھی یار کی باتیں۔

سرکار کی باتیں۔

اے کاش کہ محفل ہو،
ابوبکر، عمر کی،
عثمان، علی کی۔

اے کاش کہ محفل ہو،
ابوبکر، عمر کی،
عثمان، علی کی۔

یاروں سے سنیں،
ہم بھی سرکار کی باتیں۔

یاروں سے سنیں،
ہم بھی کبھی یار کی باتیں۔

سرکار کی باتیں۔

اے کاش کہ محفل ہو،
ابوبکر، عمر کی،
عثمان، علی کی۔

جو یاروں کا ماننے والا ہے،
ہاتھ اٹھائے، مل کے کہے:

اے کاش کہ محفل ہو،
محبوبِ بکر، عمر کی،
عثمان، علی کی۔

اے کاش عاشقوں کی محفل ہو،
ابوبکر، عمر کی،
عثمان، علی کی۔

عاشقوں کی محفل،
محبوب کی،
عثمان، علی کی۔

یاروں سے سنیں،
یاروں سے سنیں۔

ہمیں کوئی نہیں،
کوئی نہیں،
یارِ سَدا کوئی نہیں۔

کوئی نہیں، کوئی نہیں،
کوئی نہیں،
یارِ سَدا کوئی نہیں۔

کوئی نہیں، کوئی نہیں،
یارِ سَدا کوئی نہیں۔

اے کاش،
ابوبکر، عمر کی محفل،
محبوب کی،
عثمان، علی کی۔

اے کاش محفل،
محبوب کی،
عثمان، علی کی۔

یاروں سے سنیں،
یاروں سے سنیں،
ہم بھی کبھی یار کی باتیں۔

سرکار کی باتیں۔

آؤ کریں سب مل کے سرکار کی باتیں۔

اے کاش کہ محفل ہو،
ابوبکر، عمر کی،
عثمان، علی کی۔

یاروں سے سنیں،
ہم بھی یار کی باتیں۔

سرکار کی باتیں،
سرکار کی باتیں۔

یاروں سے سنیں،
ہم بھی کبھی یار کی باتیں۔

سرکار کی باتیں۔

حسنین کی ہو،
اکبر، اصغر کی ہو باتیں۔

حسنین کی ہو،
اکبر، اصغر کی ہو باتیں۔

زہرا علی کی،
حسنین کی،
اکبر کی،
اصغر کی ہو باتیں۔

زہرا کی ہو باتیں۔

ہر انگ میں،
ہر انگ میں،
سیرت میں کردار کی باتیں۔

سرکار میں ہر انگ میں،
ہر انگ میں سیرت میں،
ہر انگ میں ہو سیرت و کردار کی باتیں۔

سرکار کی باتیں،
سرکار کی باتیں۔

آؤ کریں ذرا مل کے سرکار کی باتیں،
آؤ کریں ذرا مل کے سرکار کی باتیں۔

دلدار کی باتیں،
دلدار کی باتیں۔

دلدار،
حسنین کی ہو،
اکبر، اصغر کی ہو باتیں۔

حیدر کی ہو باتیں۔

ہر انگ میں،
ہر انگ میں ہو سیرت و کردار کی باتیں۔

سرکار کی باتیں،
ہر انگ میں ہو سیرت و کردار کی باتیں۔

سرکار کی باتیں،
سرکار کی باتیں۔

اے کاش کہ محفل ہو،
ابوبکر، عمر کی،
عثمان، علی کی۔

Post a Comment

0 Comments