Bohat Roya Naat Lyrics


میں بارہا رویا طیبہ میں،
پھر رہا تھا، مجرم بنا ہوا تھا طیبہ میں۔

مجرم بنا ہوا تھا،
سوچے نبی کے احسان،
سوچے نبی کے احسان،
میں بے شمار رویا۔

درِ مصطفیٰ میں جاؤ،
قطار رویا اپنی جفائیں،
سوچی میں بارہا رویا۔

کیسے بتاؤں تم کو،
کس وقت چپ ہوا تھا؟
کیسے بتاؤں تم کو،
کس وقت چپ ہوا تھا آقا؟

کے شہر میں میں لے لو نہار رویا،
آقا کے شہر میں میں لے لو نہار رویا۔

درِ مصطفیٰ میں جاؤ،
قطار رویا،
مدینہ، مدینہ۔

اپنے نبی کے قدموں کو ڈھونڈتا رہا میں،
اپنے نبی کے قدموں کو ڈھونڈتا رہا۔

طیبہ کی گلی میں پیدل سوار رویا،
طیبہ کی گلی میں پیدل سوار رویا۔

درِ مصطفیٰ میں جاؤ،
قطار رویا،
اپنی جفائیں سوچی،
میں بارہا رویا۔

دامن تھا میرا خالی،
رب کا بنا سوالی،
دامن تھا میرا خالی،
رب کا بنا سوالی۔

ان کی شفاعتوں کا امیدوار رویا،
ان کی شفاعتوں کا امیدوار رویا۔

درِ مصطفیٰ میں جاؤ،
قطار رویا،
مدینہ۔

مدینہ، مدینہ۔

کا ایک قدم تھا،
جب واپسی ہوئی تھی،
مدینہ کا ایک قدم تھا۔

جب واپسی ہوئی تھی،
اُدھر جدائی ان کی،
میں دل بے قرار رویا۔

اُدھر جدائی ان کی،
میں دل بے قرار رویا۔

درِ مصطفیٰ میں جاؤ،
قطار رویا،
اپنی جفائیں سوچی،
میں بارہا رویا۔

Post a Comment

0 Comments