قادیانیوں کے ساتھ ھر طرح کا تعلق حرام ہے۔
س قادیانیوں کے ساتھ اشتراک تجارت اور میل طلاب کے بارے میں کیا اسلام کا حکم کیا ہے
ج صورت مسئولہ میں اس وقت چونکہ قادیانی کا فر اور زندیق ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت نہیں کھتے بلکہ عالم اسلام کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ تجارت کرنا، خرید وفروخت کرنا نا جائز و حرام ہے کیونکہ قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ لوگوں کو قادیانی جانے میں خرچ کرتے ہیں۔ گویا اس صورت میں مسلمان بھی سادہ لوح مسلمانوں کو مرتا ہے بجھانے میں ان کی مددکر رہے ہیں۔ لہذا کسی بھی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملات ہرگز جائے نہیں۔ اسی طرح شادی تھی ، کھانے پینے میں ان کو شریک کرنا، عام مسلمانوں کا اختلاط، ان کی کی باتیں سنتا، جلسوں میں ان کو شریک کرنا ، ملازم رکھنا، ان کے ہاں ملازمت کرنا ہی سب کچھ حرام یک دینی حمیت کے خلاف ہے۔ اللہ واللہ اعلم۔
قادیانیوں کو تقریب میں دعوت دینا
س قادیانیوں کو تقریبات میں دعوت دینا کیسا ہے؟
ج قادیانیوں مرتد اور زندیق ہیں اور ان کو اپنی تقریبات میں شریک کرنا دینی غیرت کے خلاف ہے۔ اگر کوئی کسی قادیانی کو دہ جو کریں تو آپ اس تقریب میں ہر گز شریک نہ ہوں ورنہ آپ بھی قیامت کے دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محرم ہوں گے۔ واللہ اعلم قادیانیوں کی تقریب میں شریک ھونا
اگر پڑوس میں چند گھر قادیانی گروہ کے ہوں، ان لوگوں سے پھیر پڑوسی ہونے کے ناطے شادی بیاہ میں کھانا پینا یاد ہے راہ و رسم رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
ج قادیانیوں کا حکم مرتدین اور زندیق کہا ہے، ان کو اپنی کسی تقریب میں شریک کرنا یا ان کے کی تقریب میں شریک ہونا جائز نہیں۔ قیامت کے دن خدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےسامنے اس کی جو ابدی کرنی ہوگی۔
قادیانی ھو جانے پر نکاح اور اولاد کا حکم
س اگر دو زوجین میں سے میں ایک قادیانی ہو جائے تو دوسرے یعنی مسلمان کو کیا کرنا چاہیے؟ اور ان کی بالغ اولاد کے بارے میں کیا حکم ہے کہ انہیں مسلمان کہا جائے یا قادیانی ؟
ج قادیانی اور مسلمان کا باہمی نکاح نہیں ہوسکتا۔ اگر زوجین میں کوئی خدا نخواستہ مرتد قادیانی ہو جائے تو نکاح فورا اور خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ اولاد مسلمان کے پاس رہے گی۔
مسلمان عورت سے قادیانی کا نکاح
ہمارے علاقے میں ایک خاتون رہتی ہیں جو بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دیتی ہیں نیز محلہ کی مستورات تعویز گنڈے اور دینی مسائل کے بارے میں موصوفہ سے رجوع کرتی ہیں لیکن باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر قادیانی ہے۔ موصوفہ سے دریافت کیا گیا تو اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر میرا شوہر قادیانی ہے تو کیا ہوا میں تو مسلمان ہوں۔ میرا عقیدہ میرے ساتھ اور اس کا اس کے ساتھ اس کے حقائد سے میری صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟
آپ سے بی دریافت کرنا مطلوب ہے کہ کسی مسلمان مرد یا عورت کا کسی قادیانی مذہب کے حامل افراد سے زن و شوہر کے تعلقات قائم رکھنا کیسا ہے؟
اہل محلہ کی شرعی معاملات میں اس خاتون سے رجوع کرنا نیز معاشرتی تعلقات قائم
رکھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
کسی مسلمان خاتون کا کسی غیر مسلم سے نکاح نہیں ہوسکتا، نہ قادیانی سے نہ کسی دوسرے غیر مسلم سے اور نہ کوئی مسلمان خاتون کسی قادیانی کے گھر رہ سکتی ہے؟ نہ اس سے میاں بیوی کا تعلق رکھ سکتی ہے۔ یہ خاتون جس کا سوال میں ذکر کیا گیا ہے، اگر اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں تو ہو اس کو اس کا مسئلہ بتا دیا جائے۔ مسئلہ معلوم ہونے کے بعد اسے چاہیے وہ قادیانی مرتد سے فورا قطع تعلق کرلے لیکن اگر بتا دیا جائے اور مسئلہ معلوم ہونے کے اور بھی بدستور قادیانی کے ساتھ رہتی ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ در حقیقت خود بھی قادیانی ہے۔ محض بھولے بھالے مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کے لیے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتی ہے۔ محلے کے مسلمانوں کو آگاہ کیا تھی جائے کہ اس سے قطع تعلق کریں اور اس سے بھی وہی سلوک کریں جو قادیانی مرتدوں سے کیا جاتا ہے۔ اس سے بچوں کو قرآن کریم پڑھانا، تعویز گنڈے لیتا، دینی مسائل میں اس سے رجوع ہ اس سے معاشرتی تعلقات رکھنا حرام ہے۔
قادیانیوں کا کیس لڑنے والا وكيل حضور صلى الله عليه وسلم کا امتی نھیں
0 Comments